سولہویں صدی کے آخرمیں جب لاہور میں شہزادہ جہانگیر انار کلی کے لئے اپنے باپ مغلِ اعظم شہنشاہ اکبر سے دو بدو تھا، 75 میل دور اور اکبر آباد(موجودہ گجرات شہر) سے 10میل دور گاوں مکیانہ سے بابا گندرہ 3 میل دور ایک بیابان اور بے آباد جگہ پر آ کر آباد ہو گیا۔ سالوں بعد وہ جگہ گندرہ کہلائی اور اسی بابا گندرہ کی اولاد نے چند میل دور گجرات شہر سے 2 میل کے فاصلے پر اسی نام کا ایک گاوں آباد کیا۔ اصل گندرہ اب گندرہ کلاں اور دوسرا گندرہ خورد کے نام سے آباد ہے۔

گندرہ کلاں اپنے ارد گرد کے دیہات مثال کے طور پربھلیسر، بانٹھ ، گھرال اور میووال وغیرہ سے کہیں زیادہ ترقی یافتہ اور متمدن ہے۔